:
Breaking News

اسمبلی انتخابات 2026 میں خواتین ووٹروں نے مردوں کو پیچھے چھوڑ دیا، بنگال سب سے آگے

top-news
https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

سال 2026 کے اسمبلی انتخابات میں خواتین ووٹروں نے تاریخی حصہ داری درج کرائی۔ مغربی بنگال، تمل ناڈو، آسام، کیرالہ اور پڈوچیری میں خواتین کی ووٹنگ شرح مردوں سے زیادہ رہی، تاہم منتخب خواتین اراکین اسمبلی کی تعداد اب بھی محدود رہی۔

سال 2026 کے اسمبلی انتخابات نے ہندوستانی جمہوریت کی ایک نئی اور اہم تصویر پیش کی ہے۔ حالیہ دنوں میں چار ریاستوں اور ایک مرکز کے زیر انتظام علاقے میں ہونے والے انتخابات کے دوران خواتین ووٹروں کی غیر معمولی شرکت نے سیاسی مبصرین، الیکشن ماہرین اور سماجی تنظیموں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرا لی ہے۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق کئی ریاستوں میں خواتین نے نہ صرف مردوں کے برابر بلکہ ان سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈال کر یہ واضح کر دیا کہ اب ملک کی سیاسی سمت طے کرنے میں خواتین کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہو چکا ہے۔

مغربی بنگال اس فہرست میں سب سے اوپر رہا، جہاں ووٹنگ کی شرح نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا۔ ریاست کی 293 اسمبلی نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں تقریباً 6.38 کروڑ ووٹ ڈالے گئے۔ مجموعی ووٹنگ شرح 93 فیصد سے زائد رہی، جبکہ خواتین ووٹروں کی شرکت مردوں کے مقابلے میں زیادہ دیکھی گئی۔ اعداد و شمار کے مطابق خواتین کی ووٹنگ شرح تقریباً 93.8 فیصد رہی، جبکہ مرد ووٹروں کی شرح 92 فیصد کے آس پاس درج کی گئی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مغربی بنگال میں خواتین کی سیاسی بیداری گزشتہ ایک دہائی کے دوران تیزی سے بڑھی ہے، جس کا اثر اب انتخابی نتائج اور ووٹنگ پیٹرن میں صاف دکھائی دے رہا ہے۔

تمل ناڈو میں بھی خواتین ووٹروں نے بھرپور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا۔ ریاست میں تقریباً 85 فیصد ووٹنگ درج کی گئی، جس میں خواتین کی حصہ داری مردوں سے نمایاں طور پر زیادہ رہی۔ ماہرین کے مطابق تمل ناڈو میں تعلیم، سماجی شعور اور خواتین کی سیاسی سرگرمیوں نے اس رجحان کو مضبوط کیا ہے۔ انتخابی مراکز پر خواتین کی لمبی قطاریں اس بات کا ثبوت تھیں کہ وہ نہ صرف اپنے ووٹ کے حق کو سمجھتی ہیں بلکہ سیاسی فیصلوں میں فعال کردار ادا کرنا بھی چاہتی ہیں۔

آسام میں بھی خواتین ووٹروں نے مردوں کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہاں دو کروڑ سے زیادہ ووٹ ڈالے گئے اور خواتین کی ووٹنگ شرح 86 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ شمال مشرقی ریاستوں میں خواتین کی سماجی اور معاشی شمولیت پہلے ہی مضبوط سمجھی جاتی رہی ہے، اور یہی رجحان انتخابات میں بھی واضح طور پر نظر آیا۔

کیرالہ، جو ہمیشہ سے تعلیم اور سماجی ترقی کے میدان میں آگے رہا ہے، وہاں بھی خواتین ووٹروں کی شرکت مردوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ ریاست میں خواتین کی ووٹنگ شرح 81 فیصد سے تجاوز کر گئی، جبکہ مرد ووٹروں کی شرح اس سے کم رہی۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ کیرالہ میں خواتین نہ صرف ووٹنگ میں سرگرم ہیں بلکہ سیاسی مباحث اور سماجی تحریکوں میں بھی ان کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔

پڈوچیری میں بھی خواتین ووٹروں نے شاندار شرکت درج کرائی۔ یہاں مجموعی ووٹنگ تقریباً 90 فیصد رہی، جبکہ خواتین ووٹروں کی شرح 91 فیصد سے زیادہ ریکارڈ کی گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی علامت ہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں خواتین سیاسی طور پر پہلے سے زیادہ بیدار اور فعال ہو چکی ہیں۔

تاہم ایک اہم سوال اب بھی برقرار ہے۔ اگر خواتین اتنی بڑی تعداد میں ووٹ ڈال رہی ہیں تو پھر اسمبلیوں میں ان کی نمائندگی محدود کیوں ہے؟ الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار یہی بتاتے ہیں کہ ووٹنگ میں نمایاں حصہ لینے کے باوجود منتخب خواتین اراکین اسمبلی کی تعداد ابھی بھی کم ہے۔

تمل ناڈو کی 234 رکنی اسمبلی میں صرف 23 خواتین کامیاب ہو سکیں۔ مغربی بنگال میں 293 نشستوں میں سے صرف 37 خواتین اسمبلی تک پہنچ پائیں، جبکہ کیرالہ جیسے ترقی یافتہ تصور کیے جانے والے صوبے میں 140 رکنی اسمبلی میں صرف 11 خواتین منتخب ہوئیں۔ یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں اب بھی خواتین امیدواروں کو مناسب تعداد میں ٹکٹ دینے سے گریز کر رہی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ خواتین ووٹروں کی بڑھتی ہوئی طاقت آنے والے برسوں میں سیاسی جماعتوں کو اپنی حکمت عملی بدلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اب خواتین صرف ووٹر نہیں رہیں بلکہ وہ سیاسی نتائج پر اثر انداز ہونے والی ایک بڑی قوت بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تمام بڑی جماعتیں خواتین کے لیے خصوصی وعدے، فلاحی اسکیمیں اور الگ منشور تیار کرنے پر زور دے رہی ہیں۔

سال 2026 کے انتخابات اپریل کے آغاز سے مئی کے پہلے ہفتے تک جاری رہے۔ آسام، کیرالہ، پڈوچیری اور تمل ناڈو میں ایک ہی مرحلے میں ووٹنگ کرائی گئی، جبکہ مغربی بنگال میں دو مرحلوں میں انتخابات مکمل ہوئے۔ چار مئی کو نتائج کے اعلان کے بعد یہ واضح ہو گیا کہ خواتین ووٹروں نے جمہوری عمل میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

سیاسی ماہرین کے مطابق، ہندوستانی جمہوریت کے لیے یہ ایک مثبت اشارہ ہے کہ خواتین اب نہ صرف سیاسی معاملات میں دلچسپی لے رہی ہیں بلکہ اپنی رائے کو ووٹ کے ذریعے مضبوطی سے ظاہر بھی کر رہی ہیں۔ آنے والے برسوں میں اگر سیاسی جماعتیں خواتین کی نمائندگی بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کرتی ہیں تو ہندوستانی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔

https://maannews.acnoo.com/public/frontend/img/header-adds/adds.jpg

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *